Disscussion Form for adult stories

Join the site free of cost and add your stories here.. Arabic Sex & English sex stories


Saturday, 19 December 2015

اردو سیکس کہانی تنہائی بارش وہ اور میں - urdu sex story

urdu sex kahani - tahnai barash wo aur mai)

 

اردو سیکس کہانی  ہو اور لڑکی  کی چدائی کا ذکر نا ہو بھلا ی کیسے ممکن ہے اب تو ہم جہاں بھی اردو کا لفظ پڑھتے ہیں سیکس کہانی کا سین خود بخود آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے اور دل کرتا ہے تنہائی ہو حسینہ ہو اور کباب ہوں شرب کی بات مٰں نہٰں کرتا کیونکہمیں پیتا نہیں ہوں اور شراب اور پینے پلانے سے مجھے ایک  شعر یاد آرہا ہے کہ کیوں مجھے پینے کی عادت نہٰں ہے وجہ جانیئے ،، سلامت رہے تیری آنکھوں کی مستی مجھے مےکشی کی ضرورت نہیں  ہے،، تو دوستوں اسی لیئے ہم پیتے نہیں ہیں
بارش کا پاکستانی شہر کراچی کا زبردست موسم مجھے بہت پسند ہے  اس موسم میں سہانی یادیں ہیں میرے جوانی کے دور کی وہ ایک راسلے میں کام کرنا پھر چھوڑ کے فلموں کے سکرپٹ لکھنے کا پنگا اور نا جانے کیا کیا اب تو ا سبات کو سالوں بیت گئے ہیں اور بالوں میں چاندی بھر گئی ہے لیکن کیا کریں دل تو  بچہ ہے جی اس سہانے موسم میں نہانے اور گھومنے کا اپنا ہی مزہ ہے اور بارش میں بھیگی ہوئی لڑکی تو مجھے بہت پسند ہے  کیا بدن نکھر کے مکھن کی طرح ملائم ہو جاتا ہے
اور مجھے بہت اچھی لگتی ہے ایسے ہی ایک بارش کا ذکر ہے میں آفس سے گھر آرہا تھا مجھے بس اسٹاپ پر ایک پاکستانی لڑکی نظر آئی وہ اکیلی کھڑی تھی  ہائے اکیلی لڑکی کھڑی ہو اور ہم اس کو یونہی کھڑا رہنے دیں یہ کیسے ممکن ہے چاہے پنگا ہی کیوں نا ہو جائے ہم تو لفٹ کی آفر ضرور کرینگے کیونکہ دل ہے پاکستانی ہندوستانی بھی کہہ سکتے ہیں اگر آپ ہندوستان رہتے ہوں لیکن مٰں پاکستانی ہوں سو میں کہوں گا دل ہے پاکستانی ویسے فرق کوئی نہٰں ہے اور نا پڑتا ہے دونوں جانب ایک ہی جیسے ترسے ہوئے رہتے ہیں
روڈ بھی سنسان تھا بارش کافی دیر سے ہو رہی تھی اور کافی تیز ہو رہی تھی لوگ بہت کم تھے سڑک پہ اور اس دوران یوں ایک رومانٹک سین میرا منتظر تھا کیا سین فلمی ہی تھا بالکل  جیسے  انڈین فلمی چنبیلی میں   ایک رات بارش اور کرینہ کپور ایک رنڈی کے کرادر مٰں موجود ہوتی ہے لیکن وہ تو آفس ورک والی لیڈی لگ رہی تھی ا سکے پاس جو بیگ تھا وہ عام طور پہ آفس گوئنگ والیوں کا ہوتا  ہے بارش کافی تھی اس لیے روڈ پر گاڑیاں کم تھیں اور پبلک ٹرانسپورٹ بھی نہ ہونے کے برابر تھی
میں نے اپنی کار اس کے پاس روکی اور اسے اشارے سے کار میں بیٹھنے کا کہا اس نے منع کردیا  میں نے پھر کیا محترمہ میں بے کار لفنگا نہٰں ہوں  اور اپنا وزٹنگ کارڈ نکال کے ہاتھ باہر کیااور ا سکو دکھایا اس نے پکڑا اور پڑھنے کے بعد ایک دم بیٹھ گئی جیسے تسلی ہو گئی ہو میں کیا ہوں  چلو آپ کو بھی بتا دیتے ہیں میرے کارڈ پہ لکھا تھا ڈائریکٹر نیوز  اور آگے پبلشنگ ادارے کا نام میں نہیں  بتا سکتا کیونکہ پرائیوسی کا معاملہ بھی ہے نا یار  کہیں آپ مجھے ڈھونڈتے ہوئے وہاں آ جائیں اور  مجھے نوکری سے ہاتھ دھونے پڑ جائیں
پھر میں نے کار کا شیشہ کھولا اور اسے کہا میں اسے گھر تک چھوڑ دوں گا میرے ساتھ بیٹھ جائے بارش تیز ہے اور اس ٹائم گاڑی ملنا مشکل ہے وہ فضول میں اپنا ٹائم ضائع کر رہی ہے اور پریشان ہو رہی ہےبارش میں بھیگنے کی وجہ سے اس پاکستانی لڑکی کا پورا خوبصورت بدن گیلا ہو رہا تھا میں نے اوپر سے نیچے تک اسے دیکھا وہ بہت خوبصورت تھی اور بھیگ کر اور بھی اچھی لگ رہی تھی ویسے بھی مجھے بارش میں بھیگی ہوئی لڑکیاں بہت پسند تھیں
میں نے اس کا نام پوچھا اسے کہاں جانا ہے یہ پوچھا اور پھر اسے کھانے کے لیے کہا پہلے تو اس نے منع کردیا لیکن میرے اصرار پر وہ راضی ہو گئی اور پھر ہم نے ایک اچھے سے ہوٹل پر کھانا کھایا اور پھر میں اسے اس کے گھر چھوڑنے گیا جب گاڑی اس کے گیٹ پر روکی تو اس نے مجھے اندر آکر چائے پینے کا کہا میں راضی ہو گیا اور اس پاکستانی لڑکی کے ساتھ اندر چلا گیا اس کے گھر میں کوئی نہیں تھا وہ مجھے اپنے کمرے میں لے گئی اور خود چائے بنانے چلی گئی چائے بناکر
وہ اور بھی اچھی لگ رہی تھی نئے کپڑۓ پہن اور اور گھیلی خوبصورت بدن کی جوانی تو لش تھی مگر اب وہ اور لش گرم لگ رہی تھی  میں نے  بائی دے وے پوچھ ہی لیا کہ آپ کیا کرتی ہٰں تو بولی ایک پرائیوڑ یونیورسٹی  میں نفسیات  کی  لیکچرر ہوں گاڑی خراب ہو گئی ورکشاپ لینے گئی وہ ابھی ٹھیک نہٰں ہوئی تھی رکشہ والے بھی نہیں  اس وقت نظر آ رہے تھے پریشان تھی کہ اس وقت آپ نے آفر کر دی مجھے اسکو چودنے کے لیئے بہہت مزہ آنے والا دل کرنے لگا تھا وہ میرے پاس سامنے بیٹھ گئی
اور میں نے اسکے پاس جاکر اسکے ساتھ بیٹھ کر اس لڑکی کا نرم ملائم ہاتھ پکڑ کر اسے گال پر کِس کرنے لگا وہ گھبرا رہی تھی  میں نے کہا قسم سے کہتا ہوں تم نفسیات کی ماہر ہوں میں جب بھی تم جیسی شخصیت کی مالک لڑکی دیکھتا ہوں نہٰں رہ پاتا پلیز کیا تم میرے ساتھ کچھ پل گزارنا چاہو گی میں اچھا انسان ہوں دل کا بھی اور اخلاق کا بھی ا سنے میری آنکھوں میں دیکھا اگرچہ ماہر نفسیات وہ تھی لیکن میں جان گیا تھا وہ مان  چکی ہے
میں نے اسے رسم کے طور پہ  کہا ڈرو نہیں میں ہوںبہت اچھا دوست بن سکتا ہوں  اور پھر اسکو کسنگ کرنے لگا اس کے سارے پاکستانی لڑکی کے بدن سے مست کپڑے  اتارنے لگا پہلے تو روک دیا  مگر پھر ننگھی ہونے لگی اور وہ بھی مجھے موقع دیکھ کر ڈرتی ہوئی کِس کرنے لگی پھر میں نے اس کے زبردست جوانی والے جسم کے مست ممے چوسنے شروع کئے اس پاکستانی لڑکی کے بڑے والے جوان نوک والے ممے اپنے منہ میں لینے سے مجھے اور بھی مزہ آنے لگا وہ بہت زیادہ ہی گرم ہو رہی تھی اسکی سسکیاں نکل رہی تھی
اس نے میرا تنا ہوا کھڑا لنڈ پکڑ کر مسلنا شروع کیا مجھے بھی اسکی جوانی کو لوٹںے اور اسکے ہاتھ میں اپنا لنڈ پکڑ کر مزہ آنے لگا پھر اس نے میرا کھڑا ہوا لنڈ اپنی چکنی مست جوانی کی ننگھی چوت پرخو زور سے رگڑنا شروع کیا پھر میں نے اپنا کھڑ ہوا تنا ہوا لنڈ اس کی چکنی جوان چوت میں ڈالا
وہ زور سے ایک دم چیخی مجھے اس کی چیخوں پر اور سکس آنے لگا اور مزہ آرہا تھا اور میں اسے خوب جھٹکے دیکر چودنا چاہ رہا تھا لیکن وہ شریف لڑکی تھی اس نے زیادہ چدائی نہیں لگوا رکھی تھی مجھے اس پہ ترس آنے لگااور میں  نے اس رومانٹک شام کی طرح رومانٹک انداز سے ا سکو مستی اور پیار سے لبریز سیکس کیا دھیرے دھیرے کبھی پوز بدل کے ا سکو سکون دیکر فارغ ہوا اور دوستوں اردو سیکس کہانی کے آخر میں بتاتا چلو اس لڑکی نے تین سال میرے ساتھ گزارے
پھر خاندانی وجوہات کی بنا پہ ساری فیملی یو کے چلی گئی اور ابھی بھی مجھے کچھ دیر پہلے ا سکی کال آئی ہے اور میں نے اس کو بتایا کہ کہانی لکھ رہا ہوں تیری اور اپنی وہ ہنس دی اور بولی تم کبھی نہیں سدھروں گے اور فون بند ہوگیا وہ سب جانتی ہے میں نے کب کیا کیا ہے ا سنے ابھی تک شادی نہیں کی مجھے اپنے پاس بلا رہی ہے لیکن میں کیسے جا سکتا ہوں میں ماضی پرست  ہوں پرانے خیالات کا مرد  ہوں جو اپنے وطن کی مٹی  کی خوشبو سے دور نہیں جا سکتا۔ میری کہانی اچھی لگی ہو تو مجھے ای میل کیجئے گا۔
more urdu sex stories click

 

Sunday, 13 December 2015

مالو آنٹی ڈاگگی سٹائل میں چودا(URDU SEX STORY)

شوبھا آنٹی ڈوگگستلےسیکس کیسےکروا رہی ہے اپنے ٹرک
MORE URDU , ARABIC AND ENGLISH SEX STORIES AND INDIAN TEEN BEST SEX VIDEO CLICK HERE
ڈرائور دوست رنجیت کےساتھ اُسکاانڈین پارن ویڈیو آج آپ دوستو کےلئے پیش ہے . شوبھا آنٹی ایک 39 سال کی ھارنی دسی آنٹی ہے جسکا پاتی ایک پرائمری سکول میں ٹیچر ہے . اور وہ ایک سیدھا سداانسان ہے . شوبھا آنٹی کا اور اُسکا اَرینجڈ مॅریج ہے جس سےآنٹی جی تو پہلےسےھی اَگینسٹ تھی . لیکن گھروالو کی جد کےآگے آنٹی کی ایک نہی چلی تھی . اور اُسےاس شادی میں ٹانگ سا دیا گیا تھا . شادی کےکچھ دینو بعد سےھی آنٹی نےاپنے کالیج ٹائم کےلور رنجیت کو یاد کرنا چالو کر دیا تھا . اور آنٹی کی ایک سہیلی نےآنٹی کا نیا کانٹॅکٹ نمبر بھی اُسےدے دیا تھا . رنجیت کےلنڈ سےچوڑنےکی سؤکھیںآنٹی کو شادی کےبعد فوراً ھی اپنے اس دوست کا لوڈ‍ا ملنےلگا تھا . رنجیت کو جب بھی چانس ملتا تھا وہ آنٹی کےسسرال میں جا کےاُسکی چت بجا آتا تھا . سسرال میں سب کو آنٹی نےیہ بتایا تھا کی رنجیت اُسکےچاچا کا بیٹا ہے . اسلئے رنجیت کےاُپر کوئی شک نہی کراتا تھا اور آنٹی جی جتنی مرجی چاہےچدائی کروا سکتی تھی . آنٹی کا پاتی دن میں سکول میں ھوتا ہے اور وہ گھر میں اَکیلی ھی رہتی ہے . اس مؤکےکا فائدہ لےکےرنجیت اکثر آنٹی کی چت کی نلی میں اپنے لنڈ کا پانی نکالنےکےلئے آ جاتا ہے . آنٹی کےاور رنجیت کےسبندھ سےآنٹی کےدو بیٹےبھی ہوئے ہے . اَنکل کو لگتا ہے کی وہ اُسکےبچےہے لیکن آنٹی جانتی ہے کی اُسکی چت میں کسکا بیج پڑا ہوا تھا . دوستو آج کےاسانڈین پارن ویڈیو میں آپ شوبھا آنٹی کو چدوتےہوئے دیکھ سکتےہے . آنٹی ڈوگگستلےمیں لیتی ہوئی ہے اور ٹرک ڈرائور رنجیت اُسکےاُپر آیا ہوا ہے . آنٹی اپنی گانڈ کو ھلا رہی ہے اور رنجیت پچےسےاُسےمست پیل رہا ہے . اس پیاسی آنٹی کی ڈوگگستیلےچدائی آپ کو کیسی لگی?

MORE URDU , ARABIC AND ENGLISH SEX STORIES AND INDIAN TEEN BEST SEX VIDEO CLICK HERE 

حلاوة النيك من الطيز مع جارتي التي قذفت في احشائها – اسخن قصص سكس عربي نار

كانت تجربة جنسية ساخنة ذقت فيها حلاوة النيك من الطيز مع بنت الجيران التي لطالما اشتهيت جسمها منذ الصغر و قد جائتني الفرصة كي انيك ذلك الطيز فلم اضيعها و هذا بفضل احدى الجارات التي كنت قد قدمت لها خدمة و وعدتني ان تسهل الامر حتى انيك جارتي . و فعلا تمت الامور بشكل رائع جدا و اخذتها الى احد الاقبية في عمارتنا في وقت الظهيرة و اخبرتني انها ستتركني انيكها من الطيز و لا يحق لي ان اقترب من كسها مهما كانت شهوتي او درجة اللذة و وضعت يدها على كسها و رفعت لها فستانها لارى الطيز الابيض مختفي تحت كيلوتها الابيض ايضا و بسرعة بدا قلبي ينبض بقوة مع حلاوة النيك و شدة الشهوة و الشبق و انزلت لها الكيلوت بسرعة و وضعت زبي على الطيز و كان طريا جدا . احسست بحرارة كبيرة و جميلة جدا بين فلقاتها الكبيرة و زادت نبضات القلب و الحرارة الجنسية و دفعت زبي الى ناحية فتحتها لكي ادخله و سمعتها تطلق اهة جميلة اي اي فقلت لها ما بك فقالت لا يمكن ان تدخل زبك الا بعد ان تبلله باللعاب و هنا زادت شدة شهوتي حين سمعت هذه الكلمات التي هيجتني و بزقت بقوة على زبي و فعلا حين حاولت ادخاله في المرة الثانية احسست ان الراس ينسل داخل فتحتها بسرعة
و كانت فتحتها ساخنة جدا جعلت حلاوة النيك تشتد و انا ادفع زبي داخل طيزها و جارتي واقفة و انا اسمع نبض قلبها القوي و يدي على صدرها تتحسس رغم اني لم اكن المس الصدر مباشرة لانني لم اعريها و لكن كان ملمس صدرها من فوق المابس لذيذ جدا و ممتع . و بدات ادخل زبي و فعلا ادخلت حوالي النصف و بدات احكه بين احشائها و انا انيك طيزها بكل قوة و بلذة جنسية جميلة و عالية جدا و في نفس الوقت اتحسس على صدرها و حلاوة النيك كانت مثالية و لا توصف من شدة المتعة و احسست ان زبي بدا يجف و هو داخل طيزها من كثرة الاحتكاك و هنا اخرجت و بزقت عليه مرة اخرى و من شدة الشهوة احسست ان اللعاب جف في فمي و تفاجات حين رايت زبيت حول لونه الى البني و اعدت ادخاله بكل قوة و انا انيك جارتي من الطيز و ادخل بقوة و اخرج و يدي على الصدر و اقبل رقبتها و الحس و الف يدي على رقبتها و اشعر بالمتعة و حلاوة النيك الساخنة التي لم اعشها من قبل . و بدات اشعر ان بركانا من النار داخل زبي يريد ان ينفجر من شدة المتعة و الشهوة و رغم اني لم اكن ارغب في القذف المبكر الا ان الامور لم تكن بيدي و وجدت نفسي استسلم من حلاوة طيزها و حرارة النيك الذي كنا عليه
و فعلا انزلقت مني زبي قطرات مني داخل طيزها و انا انيكها واقفا من خلفها و لكنها لم تنتبه للامر و لم تعلم اني اقذف الا حين بدات باطلاقات الاهات الساخنة جدا من حلاوة النيك التي كنت عليها مع الجارة و هنا صرخت و التفتت الي و قالت هل بدات تقذف و سارعت بالانفلات مني و كاد زبي يخرج من داخل طيزها لكني ضممتها بقوة و و من شدة الشهوة التي كنت عليها أصبحت املك قوة رهيبة جدا . لم اتركها تنفلت من بين يداي و أكملت قذف حليبي داخل طيزها و هي تحاول الهرب مني لانها لم تكن تريد ملا احشائها بالمني و لكن حين رات اصراري و تلك الشهوة التي كنت عليها رضخت للامر الواقع و تركتني اكمل قذف ما بقي من حليب داخل زبي كله في احشاء طيزها و كانت فعلا نيكة جميلة و لذيذة جدا أخرجت شهوتي معها بطريقة رائعة و كانت حلاوة النيك غامرة و جميلة جدا حتى شعرت بالتعب و البرود الجني و بدا زبي بالانكماش داخل طيزها فقمت بسحبه لاتفاجئ به اصبح لونه بني من كثرة ما حكتته داخل احشائها
و بسرعة شعرت باحساس غريب و انسحبت الى البيت اغسل زبي الذي امتلا بفضلات احشائها و لكن لما وصلت الى البيت و بدات اغسل زبي بالصابون عادت الشهوة مرة أخرى تتحرك على زبي و انا أتذكر كيف كنت انيك الطيز و حلاوة النيك اللذيذة . و استمنيت و انا ارغب في الحصول على نفس لذة القذف التي عشتها حين أخرجت المني من زبي في طيز جارتي لكن المتعة و اللذة كانت مختلفة تماما و مع ذلك قذفت المني بعد الاستمناء مرة أخرى بكل لذة و انا اتخيل اني انيك جارتي و حلاوة النيك معها و طيزها الساخن


Read more: http://sexykahaniya.biz/?p=14860&#ixzz3uBzTKT5D 
Follow us: sexykahaniya88 on Facebook

النيك قبل الجواز مع سلمى بنت خالتي (ARABIC SEX STORY)

كنت بامارس معها الجنس وأنا في دنيا تانية من اللذة والمتعة الجنسية وهي تتغنج وتتاوه بسخونة كبيرة في جنس مثير وساخن ونيك ممتع جداً. ودي كانت أول مارة امارس فيها السكس والجنس في حياتي عشان كد فضلت محفورة في ذاكرتي. كان ده مع سلمى بنت خالتي اللي كنت باحبها أوي من صغري ولما كبرنا عرفنا طعم الجنس والنيك مع بعض فبدانا نمارس الجنس لغاية ما فضيت غشاء بكارتها بزبري وفتحتها وهي دلوقتي متجوزة وعندها أولاد بس هأحكيلكم قصة النيك قبل الجواز وفي اليوم ده اللي ما أقدرش أنساه لقيت نفسي لوحدي معاها في شقتنا وكنت هيجان على الآخر وشهوتي نار إلى أبعد حد وكانت سلمى لابسة جيبة قصيرة ولما قعدت قدامي كان كيلوتها ظاهر وفخادها فزبري وقف جامد وهجت عليها واتمنيت لأول مرة إن ادخل زبري في كسها وانيكها عشان اكتشف لذة وحلاوة الجنس معاها. بدأت أقرب منها وبما أننا كنا بنحب بعض صغرنا وعارفين بعض كويس فبدأت اتكلم معاها عن الجنس ومتعته وما لقيتش أي ممانعة أو مقاومة من ناحيتها بل على العكس لقيتها على اتم استعداد لممارسة الجنس معايا.
وبعدين طبعت قبلات ساخنة أوي على شفايفها لغاية ما حسيت إن نفسي هيقف من كتر نبضات قلبي اللي كانت زايدة أوي وبعدين حسست على ضهرها ونزلت إيددي لغاية ما وصلت لطيزها الطرية وكانت جميلة أوي ودخلت إيدي من تحت الجيبة ولمست طيزها وبعدين عديت صباعي من بين فلقتيها لغاية ما لمست خرم طيزها اللي كانت سخنة أوي حتى قبل ما امارس معاها النيكة الكاملة الساخنة. وبعد كده قلعتها البلوزة عشان أشوف أحلى بزاز في الدنيا وكانت ساعتها لسة صغيرة إلى حداً ما. بدأت أمص في حلماتها بسخونة كبيرة وهي بتحسس على رقبتي ووداني وأنا حاسس بمحنة عالية أوي فطلعت زبري اللي كانت أول مرة تشوفه على الرغم من إننا عارفين بعض من صغرنا بس ما جتش الفرصة عشان انيكها واستمتع بكسها. بدأت سلمى تمص زبري وحسيت بحلاوة ومتعة خيالية جداً لدرجة إني نزلت مني زبري جوه بوقها بسرعة أوي وأنا دايب من المحنة اللي كنت فيها والغريب في الموضوع إن زبري ما انكمش لكن فضل منتصب بشكل قوي جداً.
ودي كانت أحلى لحظات النيك قبل اجواز وده اللي خلى زبري يبقى مستعد لدخول كسها لإن محنتي كانت بقيت مرتفعة جداً وبدأت احك زبري على وشها واحاول ادخله بين شفافيها المليانة بالمني اللي قذفته في بوقها من النيكة الأولى. كانت بتتعمد تخبي وشها وتبعد بوقها عن زبري عشان تهيجني أكتر وتخليني اشتهي اليك معاها بس أنا مسكتها وأنا بارتعش من الشهوة وبعدين شدتها من شعرها لغاية ما صرخت وقالت اه من الوجه وهنا دخلت زبري في بوقها وأنا باضحك وبدأت تمص في زبري جامد وبلذة كبيرة وأنا كنت حاسس إن المرة دي الأمور هتبقى أكتر لذة وحلاوة لإني كنت مستمتع أوي ببوقها ولحظات الرضع والمص اللي كنت فيها على عكس النيكة الأولى اللي نزلت مني فيها بسرعة أوي أول ما دخلت زبري في بوقها عشان ترضعه. وبعد ما رضعت زبري شوية، نزلت البنطلون كله وقلعت التي شيرت عشان أكون عريان قدامها وزبري واقف لفوق مستعد للنيك مع سلمى وأحلى كس جربته. وبعدين قلعتها السونتيانة والكيلوت عشان أخليها عريانة زي ولحست في كسها فترة طويلة ودخلت لساني فيه ومصيت بظرها ودخلت صباعي في كسها اللي كان بينزا مياهه بغزارة لغاية ما بقيت تترجاني أدخل زبري في كسها وهي بتقول لي: يلا بقي يا حبيبي مش قادرة استحمل يلا نيكني دخل زبرك أرجوك. حسيت إنها بتكلم زبري مباشرة وزبري استجاب لرجائها وتوسلاتها وبطريقة لاغرادية لقيت نفسي بأحط زبري بين فخادها واحكه على شفراتها تلات مرات وبعدين حطيت رأس زبري على فتحتها ودفعت جسمي كله في الذ نيك وأحلى سكس.
كان زبري بيدخل كسها بسرعة ولذة عالية جداً بس فجأة زبري وقف عن الدخول وحسيت إني كسها فيه جدار بيمنع زبري من الدخول. بقيت أطلع زبري وأدخله تاني لغاية نصه في كسها من غير ما أفتحها بس هي صرخت فيا: يلا بقى دخلوه جامد افشخلي كسي. حطيت إيديها على طيزي وحضنتني جامد وهي بتحاول تشدني أكتر في كسها عشان أطفي نار كسها. ما حسيتش بنفسي إلا وأنا بأرمي جسمي كله علىها وحسيت بزبري كأني طعنت كسها برمح فكان التمزق شديد لما زبري اخترق كسها ولقيت زبري كله في كسها لغاية ما وصلت بيوضي لشفراتها وزادت شهوتي من سخونة كسها وفقدت السيطرة على نفسي، وطلعت زبري من كسها على طول وحطيته على بطنها وفوجئت بإنه مصطبخ باللون الأحمر. ما بقيتش مصدق نفسي إن نيكت سلمى وفتحت كسها. نضفنا نفسنا وبقيت أنيكها كل ما أحن لكسها لغاية ما أتجوزت وأتحرمت منه بس بقيت خبرة من النيك قبل الجواز .

اسخن قصص سكس عربي نار, arabic sex story



Read more: http://sexykahaniya.biz/?p=14869#ixzz3uBz4pjq4 
Follow us: sexykahaniya88 on Facebook

Tuesday, 6 October 2015

تیل مالِش اور زبردست چدائی (Urdu font sex story)


میری اِس کہانی کو پڑھنے والی سبھی چُوتوں اؤر لؤڑوں کو میرا بار بار سلام !

دوستو ! اِس کہانی کو پڑھکر چُوتیں اؤر لنڈ پانی چھوڑ دیںگے، یہ میرا آپسے وادا ہے اؤر آپکا بھی من چُدائی کے لِئے بیکرار ہو جاّیگا۔

دوستوں میرا نام سُنیل ہے، اُمر 28 اؤر لمبائی 6 فُٹ ہے ۔ ہمارا پرِوار ایک سںیُکت پرِوار ہے۔ میں آج آپکو اَپنے جیون کی ایک سچّی گھٹنا کے بارے میں بتانے جا رہا ہُوں۔ اِسکے باد سے تو میری جِندگی ہی ایک سیکسی فِلم جیسی ہو گئی۔ ہمارے پرِوار کے سدسے کِسی کی شادی میں گئے ہُئے تھے اؤر ہمارے گھر میں کوئی نہیں تھا۔ اِس لِیے میں شام کو گھر واپِس آ گیا اؤر پڑوس والی چاچی کے گھر چلا گیا۔ میرے چاچا فؤج میں تھے اؤر کُچھ دِن پہلے ہی چھُٹّی بِتاکر واپِس گئے تھے اِسلِیے میری چاچی گھر پے اَکیلی رہتی تھی۔ گھر میں ویسے تو اُنکے ساس سسُر بھی تھے پر وو بات کہاں تھی کِ جو اُنکے سُکھ دُہکھ باںٹ سکیں۔

میری چاچی کی اُمر 26 سال اؤر لمبائی 5'8" ہے اؤر اُنکی فیگر 36-32-36 کی ہے اُنکی شادی کو سات سال بیت چُکے تھے۔ پر اُنہیں اؤلاد کا سُکھ نسیب نہیں ہُآ تھا۔ آج بھی وو بڑی سیکسی نزر آتی ہیں۔ جب پہلے بھی کبھی میں اؤر چاچی گھر میں اَکیلے ہوتے تھے تو میںنے کئی بار جھُک کر کام کرتے سمے اُنکی گوری-گوری چھاتی دیکھی تھی۔ اُنکے وو بڑے بڑے ستن ہمیشا ہی میری آںکھوں کے سامنے گھُومتے رہتے تھے۔ میری ماں نے چاچی کو کہ رکھا تھا کِ رات کو ہمارے گھر پر سو جانا۔

شام کو میں چاچی کے گھر چلا گیا۔ جب چاچی گھر کا کام کر رہی تھی، اُنہوںنے کالے رںگ کا سُوٹ اؤر سپھید سلوار پہنا ہُآ تھا۔ گرمی کا مؤسم ہونے کے کارن اُنکے کپڑے پتلے تھے اؤر اُسمیں سے اُنکے اَںدرُونی کپڑے برا اؤر چڈّی ساف نزر آ رہے تھے۔ میں اُس وکت ٹیوی دیکھ رہا تھا لیکِن میرا پُورا دھیان چاچی کی گاںڈ اؤر بڑے بڑے ستنوں پر تھا۔ رات کو کھانا کھاکر میں اَپنے گھر آ گیا۔ چاچی نے کہا کِ وو کام نِپٹا کر تھوڈی دیر میں آ رہی ہے۔ مُجھے دیر تک ٹیوی دیکھنے کی آدت ہے اِسلِیے میں کریب رات 9:30 تک ٹیوی دیکھتا رہا۔

تبھی چاچی آ گئی۔ اُسکے باد میںنے گھر کے سبھی درواجے چیک کرکے بںد کر دِئے۔ میںنے چاچی کا بِستر بھی اَپنے کمرے میں لگا دِیا تھا۔ تھوڑی دیر تک ہمنے ٹیوی دیکھا، پھِر چاچی مُجھسے کہنے لگی کِ اُسے نیںد آ رہی ہے اؤر وو سو رہی ہے۔

میںنے کہا- ٹھیک ہے، تُم سو جاّو۔

اُسکے باد میں کریب ایک گھںٹا اؤر ٹیوی دیکھتا رہا۔ سونے سے پہلے جب میں پیشاب کرنے کے لِیے جانے لگا تو میںنے دیکھا کِ چاچی اَبھی تک جاگ رہی ہے۔ میںنے پیشاب کرکے واپِس آ کر چاچی سے پُوچھا- کیا بات ہے، آپکو نیںد کیوں نہیں آ رہی؟

تو چاچی نے بتایا کے اُسکے پیٹ میں بڑا درد ہو رہا ہے۔ تو میںنے اُنسے پُوچھا کِ کیا میں اُنکی کوئی مدد کر سکتا ہُوں تو اُنہوںنے کہا- پلیز ! سرسوں کے تیل سے میرے پیٹ کی تھوڑی مالِش کر دوگے؟

تو میںنے کہا- ٹھیک ہے۔

میں سرسوں کا تیل لیکر آ گیا۔ اُنہوںنے اَپنے پیٹ پر سے کمیج اُوپر کر دِیا، میںنے اُنکے پیٹ کی مالِش کرنی شُرُ کر دی۔ میں کریب 30 مِنٹ تک اُنکی مالِش کرتا رہا۔ اُسکے باد اُنکے پیٹ کا درد کُچھ ٹھیک ہو گیا پر اَبھی بھی تھوڑا سا تیل بچ گیا تھا تو اُنہوںنے کہا کِ اِسے اُنکی پیٹھ پر لگا دو۔

چاچی کی پیٹھ سے اُنکا کمیج ٹھیک سے اُوپر نہیں ہو رہا تھا تو چاچی بولی- چلو میں کمیج ہی اُتار دیتی ہُوں۔

چاچی کمیج اُتار کر لیٹ گئی اؤر میں اُنکی لاتوں پر بیٹھ کر اُنکی پیٹھ کی مالِش کرنے لگ گیا۔ ایسا کرتے سمے میںنے کئی بار اَپنا ہاتھ اُنکے ستنوں پے لگایا پر وو کُچھ ن بولی۔ پھِر مالِش کرنے کے باد اَپنے بِستر میں چلا گیا۔

اَبھی مُجھے لیٹے ہُئے تھوڑا وکت ہی ہُآ تھا کِ چاچی میری چارپائی کے پاس آ گئی اؤر میرے اُوپر بیٹھ گئی۔ مُجھے پتا نہیں چل رہا تھا کِ میں کیا کرُوں۔

میںنے چاچی سے پُوچھا- آپ یہ کیا کر رہی ہو؟

تو وو بولی- آج تُونے میرے ستنوں کو ہاتھ لگا کر کئی سالوں سے میرے اَںدر کی سوئی ہُئی اؤرت کو جگا دِیا ہے اؤر اَب اِسکی گرمی کو ٹھںڈا بھی تُمہیں ہی کرنا پڑیگا۔

وو چاچی جِسکے ساتھ نںگا سونے کے میں سِرف سپنے ہی دیکھتا تھا وو آج میرے اُوپر بِنا کمیج کے بیٹھی ہُئی تھی۔ میرا سپنا سچ ہونے جا رہا تھا اِس لِیے میں بہُت کھُش تھا۔

پھِر میںنے اؤر چاچی نے اَپنا کام شُرُ کر دِیا۔ اُسنے اَپنے ہوںٹھ میرے ہوںٹھوں میں ڈال لِیے اؤر 10 مِنٹ تک مُجھے چُومتی رہی۔ پہلے مینے اَپنی جیبھ چاچی کے مُںہ میں ڈال دی اؤر پھِر اُسنے میرے۔ پھِر چاچی نے اَپنی سلوار اُتار دی اؤر اَب اُسنے سِرف برا اؤر چڈّی ہی پہنی ہُئی تھی۔ پھِر وو بِستر پر لیٹ گئی اؤر میں اُسکے اُوپر۔

پھِر ہم دونوں کافی وکت تک ایک دُوجے کو چُومتے رہے، کبھی میں اُسکی چھاتی کو چُومتا، کبھی اُسکے پیٹ کو، تو کبھی لاتوں کو۔ پھِر چاچی نے اَپنی برا اُتار دی اؤر میںنے اُنکے بڑے بڑے بُوبس چُوسنے شُرُ کر دِیا۔ اُسکے چُوچُک سکھت ہو گئے تھے اؤر چُوچی سکھت کٹھور ہوتی جا رہی تھی۔ میں اُنہیں مست ہوکر چُوسے جا رہا تھا۔

پھِر چاچی نے اَپنی چڈّی بھی اُتار دی اؤر میرے ساتھ لیٹ گئی۔ چاچی کی چُوت بہُت بڑی تھی۔ میںنے اُسکو چاٹنا شُرُ کر دِیا۔ پھِر 5-6 مِنٹ میں چاچی پہلی بار جھڑ گئی۔ اُسکے باد چاچی نے میرا بڑا سا لںڈ اَپنے مُںہ میں ڈال لِیا اؤر چُوسنے لگ گئی میںنے بھی اُنکے مُںہ میں ہی پِچکاری مار دی۔

پھِر چاچی نے کہا- چلو اَب اَسلی کام کرتے ہیں !

چاچی ٹاںگوں کو تھوڑا کھول کر سیدھی لیٹ گئی۔ میںنے اُوپر سے اَپنا لںڈ چاچی کی چُوت میں ڈال دِیا، وو بہُت کھُش تھی کیوںکِ آج بہُت وکت باد اُسکی چُوت میں لںڈ گھُسا تھا۔ میںنے لںڈ کو آگے پیچھے کرنا شُرُ کر دِیا۔ چاچی نے بھی آآاَ اِیئے اُواُوہ ماآ ہاآ ہاَّ کی آوازیں نِکالنی شُرُ کر دی۔ میں کریب تیس مِنٹ تک چاچی کی چُوت چودتا رہا، اِسمیں چاچی دو بار جھڑ چُکی تھی۔

پھِر میںنے چاچی کو کہا- میں اَب تُمہیں گھوڑی کی ترہ چودنا چاہتا ہُوں۔

چاچی گھوڑی بن گئی، میںنے لںڈ کو پیچھے سے اُسکی چُوت میں گھُسیڑ دِیا۔ چاچی کی چُوت پیچھے سے بڑی تںگ مہسُوس ہو رہی تھی۔ اُنہیں درد ہُآ اؤر وو چِلّا دی- آایئیئیئیئیئیئیئیئے ماآّآّاَ !

میںنے جور جور سے لںڈ آگے پیچھے کرنے شُرُ کر دِیا اؤر 15 مِنٹ تک چاچی کو چودتا رہا۔ میںنے چاچی جیسی گرم اؤرت کی کبھی نہیں لی تھی۔ پھِر میرا چھُوٹ گیا اؤر میں چاچی کو چُومنے لگ گیا۔ تھوڑی دیر میں ہی لںڈ پھِر سے سلامی دینے لگا۔ پھِر چاچی نے بولا کِ میں ایک بار پھِر اُنکی چُوت مارُوں !

اِس بار وو میرے اُوپر بیٹھ گئی اؤر اَپنے آپ ہِل ہِل کر دھکّے دینے لگی۔ مُجھے بڑا مزا آ رہا تھا۔ پھِر میںنے اُس ساری رات چاچی کی چار بار چُوت ماری۔ چاچی نے مُجھسے سُبہ کہا کِ اَب اُنکی تمنّا جرُور پُوری ہو جایّگی۔

اِسکے باد جب بھی ہمیں مؤکا مِلتا، ہم یہ کھیل کھیلتے رہے۔ کُچھ مہینے باد چاچی نے ایک دِن مُجھے بتایا- میں ماں بنّے والی ہُوں اؤر یہ سب تُمہاری ہی بدؤلت ہے کِ مُجھے ماں بنّے کا سُکھ مِلا ہے پر مُجھے ڈر ہے کِ تُم کہیں یے سب کِسی کو کہ ن دو۔

میںنے چاچی کو وِشواس دِلایا کِ ایسا کبھی نہیں ہوگا اؤر یہ بات ہمارے بیچ ہی رہیگی۔

اُس دِن سے آج تک پتا نہیں میں کِتنی ہی ایسے چاچِیوں اؤر بھابھِیوں کو یے سُکھ دے چُکا ہُوں۔

تو دوستوں مُجھے میل کرنا ن بھُولیں، آپکے میل کا اِںتجار رہیگا۔

پہلی دفعہ کی چدائی ایک جوان رنڈی کے ساتھ (Urdu font sex story)

میرا نام فران ہے یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نے گریجویشن کے بعد نوکری اسٹارٹ کی تھی اور مجھے سکس کرنے کا بہت دل کرتا تھا- میرے لنڈ کا سائز اسوقت 7 انچ لمبا اور 1 انچ موٹا تھا- چناچہ پہلی تنخواہ آنے پر میں نے اپنے ایک عزیز دوست کے ساتھ رنڈی کو چودنے کا پلان بنایا اور اس دوران میرے گھر والے گاوں گئے ہوئے تھے کزن کی شادی پر اور ہم دونوں ورجن تھے اور سردیوں کی وجہ سے ٹھرک بھی کافی چڑھی ہوئی تھی تو ہم نے بڑی مشکل سے ایک چکلے کا پتہ کیا جو نائٹ پر لڑکیاں بھیجتا تھا اور وہاں جاکر ہمیں چکلے چلانے والی نے لڑکیان دکھانا شروع کیں اور کہا کہ پر لڑکی وہ 3000 نائٹ لے گی اور لانا لے جانا ہمارا ہوگا-
میرے دوست کا تعلق ایک امیر گھرانے سے تھا تو اسکے ہاس گاڑی تھی اور ہم نے رنڈیوں میں سے ایک لڑکی مصبہ کو سلیکٹ کیا جسکی عمر 19 سال تھی اور تھوڑی سانوالی رنگ کی مگر سکسی فیگر اور لمبے ہونٹ پلس نارمل ممے تھے اور بتایا کہ یہ 11 سالسے چدائی لگوا رہی ہے مگر اسکی چوت ابھی تک ٹائٹ ہے- خیر میں نے پیسے دینے کے بعد اس لڑکی کا باہر گاڑی میں انتظار کرنے لگے اور وہ 5 منٹ بعد برکھے میں آکر گاڑی میں بیٹھ گئی- ہمیں ڈر تو لگ رہا تھا مگر ٹھرک کے آگے مجبور تھے اور اسے اپنے گھر لے آئے- اور پھر کھانا کھانے کے بعد اسے میں اپنے بیڈ روم میں لے گیا اور اس سے ہم دونوں نے باتیں کیں-
پھر مویز نے کہا کہ میں پہلے جاتا ہوں اندر اس کرو گا اور پھر تم جانا تب تک تم یہاں بیٹھ کر سیگریٹ پیو اور میں لاونج میں انتظار کرنے لگا اور 30 منٹ بعد مویز آیا اور میرے ساتھ سانسیں لیتے ہوئے بیٹھ گیا اور کہا کہ یور بہت مست اور چکنی ہے میں نے تو اسے بہت چوما اور مزے سے چودا- اب باری میری تھی اور میں اندر گیا کمرے میں اور وہ پھر ننگھی بیتھی تھی بیڈ پر میں اسے چومنا چوسنا چاہتا تھا تو اسکو پہلے نہانے کا کہا اور اس سے اسکی ہو ایک چیز دھلوائی اور اپنے ہاتھوں سے اسکا بدن پونچھا- پھر کمرے میں آکر اپنے کپڑے اتارے اور اسکو اپنی باہوں میں دبا کر اسکے اوپر لیٹ گیا اور بے تحاشا چومنے لگا- پہلی بار کسی لڑکی کو اپنے سامنے ننگھا دیکھا تھا اور پھر جب اسنے میرا لنڈ دیکھا تو کہا کہ اتنا بڑا اب تک کتنوں سے کیا یے تو میں نے کہا کہ مٹھ مار کر ایسا ہوا ہے تو پہلی ہے- اور پھر اسکے ممے چوسنے لگا اور اسکی چوت کو دیکھنے لگا-
پھر اسکے پورے بدن کو چاٹا اور چوت میں انگلی ڈال کر اندر باہر کرنے لگا یار بہت گرم تھی چوت اسکی اور میں اسکے ہونٹ چومتا رہا اور ممے دباتا رہا پھر اسکے ساتھ اوپر نیچے بستر پر گھومتا رہا اور اسکے پورے بدن پر ہاتھ پھیرا- پھر اسنے میرے لنڈ پر کمرے میں پڑا تیل لگایا اور تانگ اٹھا کر لیٹ گئی اور میں نے لنڈ اسکی چوت میں ڈالنے لگا اور تھوڑا اندر گیا تو اسنے کہا کہ آرام سے کرنا تیرا بہت بڑا ہے اور مجھے عادت نہیں ہے- خیر میں بڑا ایکسایٹڈ تھا کہ آج میں چوت میں لنڈ دال رہا ہوں اور چکنا مست بدن ہے اسکا- تو آرام سے اندر ڈھکیلتا رہا اور وہ ناٹک کرنے لگی آہ ہ ہ س س س اور پھر میں نے لنڈ اندر ڈالا اور اس سے لپٹ گیا-
میں مدہوش ہونے لگا اور چوت کی گرمی سے مجھے نشہ چڑھ رہا تھا اور میں نے لنڈ کو اندر باہر کرنے شروع کردیا اور اسنے کہا کہ آرام سے کرو گے تو دیر تک ہوگا ورنہ جلدی چھوٹ جاو گے اور میں نے اسکی ٹانگیں اٹھا کر بازوں سے کھندوں تک کردیں اور لنڈ کو اندر باہر کرتا رہا اسکی چوت کافی ٹائٹ تھی اور وہ مجھ سے باتیں کر رہی تھی اور میں اسکے ممے بھی چوس رہا تھا جو کافی سخت تھے- اور 3 منٹ بعد میرے لنڈ سے مٹھ اسکی چوت میں نکلنے لگی اور میں تھنڈا ہوگیا تو اسنے کہا کہ تو اب فارغ ہوگیا ہے اور پھر میں نے اسکو کافی چوما اور چاٹا مجھے کافی مزہ آیا تھا اور پھر اسکے اوپر لیٹ گیا پھر مویز نے کہا کہ چل میں بھی اندر آرہا ہوں ایک اور شوٹ لگاتے ہیں-
تو اسنے کہا کہ تم دونوں ابھی کچے ہو اور پھر ہم 2 گھنٹے تک اسی طرح بات کرتے رہے اور میں نے دبارہ لنڈ کھڑا کیا اور مویز نے اسکو گھوڑا بنایا اور میں نے پیچھے سے اسکی چوت میں لنڈ ڈال کر تیز تہیز چودا اور پھر 6 سے 7 منٹ بعد میں بارغ ہوا اور مویز اسکو چوپا لگا رہا تھا وار اسکے منہ میں فارغ ہوا اور اسی طرح ہم پوری رات اسکے ہر جگہ سے مزے لوٹتے رہے اور صبح 6 بجے سوئے وہ صرف ایک دفعہ فارغ ہوئی اور ہم 5 گھنٹوں میں 3 بار فارغ ہوئے اور بس ہو گئی ہم سے- پھر ساتھ ناشتہ کیا اور اسکے ساتھ مل کر نہایا اور انگلی ڈال کر اس سے کھیلا اور اسے گھر والپس ڈراپ کر دیا- اس دن کے بعد میں نے ہر مہینے اسی چکلے میں جا ر اپنی پسند کی ہر لڑکی کی چدائی ماری اور مصبہ جب واپس آئی تو اسکو اپنی پرمیننٹ رنڈی بنا لیا اور مجھے اس پر ڈسکاونٹ ملنے لگا

Saima Urdu Hot & Sexy Girl

کیا حال ہیں دوستو
یہ سٹوری میرے اور مری ایک دوست صائمہ کے بارے میں ہے .صائمہ ٢٠ سال کی جواں لڑکی ہے اور وہ میری بہت اچھی دوست بھی ہے.میری اس سی دوستی رانگ کال کی وجہ سے ہوئی تھی
ہوا کچھ یوں کے رات کو میں فیس بک پی چیٹ کر رہا تھا اور رات ١١.٣٠ کا ٹائم تھا مجے انجان نمبر سے کال موصول ہوئی میں نی کال اٹینڈ کی اگے سی ایک بہت ہی پیاری آواز میں لڑکی بولی .میں نے پوچھا کے اپ کون ہو .وہ بولی کہ میرا نام صائمہ ہے اور ساہیوال کی رہنے والی ہوں .میں بہت حیران ہوا کیوں میرا بھی ووہی سٹی ہے.میں بولا کہ اپ کو میرا نمبر کہاں سی ملا .وو کہنے لگی کہ میں نی اپنے پاسس سی ہی ڈائل کر دیا اور اپ کی ساتھ بات ہو گئی.وہ کہنے لگی کہ میں اپ کے ساتھ دوستی کرنا چاہتی ہوں.میں نے کہا کہ اگر تم اپنے بارے میں سچ بتاؤ گی تو دوستی ہو سکتی ہے ورنہ نہیں اسنے کہا کہ میں سب تم کو سچ بتا رہی ہوں. اور اسنے مجھے اپنے گھر کا اڈریس بھی پہلی ہی کال پی بتا دیا میں بہت حیران ہوا .میں نے اس سے دوبارہ کہا کہ سچ بتاؤ کہ میرا نمبر کہاں سے ملا اسنے بتایا کہ وہ میرے ساتھ والی گلی میں رہتی ہے اور اسنے میرا نمبر میری کزن سے لیا ہے .پھر اسنے بتایا ہے کہ وہ میری کزن کی بہت اچھی دوست ہے.میں نی اسے کہا کہ ہماری دوستی ہو سکتی ہے اگر تم میری کزن کو ہمارے بارے میں نہ بتاؤ تو وہ فورن مان گئی پھر اسنے بتایا کہ میں تمہارا نمبر اسکے موبائل سی چوری لیا ہے .تو میں یہ سن کر خوش ہو گیا .باتوں باتوں میں پتہ نہیں چلا ک تیمر کیا ہو گیا ہے جب ٹائم دیکھا تو ١:٣٥ ہو چکے تہے پھر میں نی کہا کہ اب سوتے ہیں کل بات ہو گی.اسنے کہا ٹھیک ہے مجھے جلدی اٹھنا ہے کالج کی لئے.پھر ہم نے ایک دوسرے کو باے بولا اور کال بند کر دی
اگلے دن میں 8:30 پر آٹھ گیا اور شاپ پر چلا گیا سوری میں آپکو بتانا بھول گیا مری لیڈیز گارمنٹس کی شاپ ہے .شاپ اوپن کی اور کام والے لڑکے بھی آگے اور انہوں نی صفائی وغیرہ کی اور گاہک آنا شروع ہو گے.پھر میرے موبائل پر کال آی دیکھا تو صائمہ کی کال تھی اور سلام کے بعد اسنے بتایا کہ وہ کالج میں ہے اور اس ٹائم فری تھی تو بات کرنے کی لئے کال کردی.میں نی کہا ک جناب اب ہم دوست ہیں اپ جب مرضی کال کرو وو بہت خوش ہوئی اور کہنے لگی اگر آپکو برا نہ لگے تو کیا میں آج آپکی شاپ پر آسکتی ہوں میں برا حیران ہوا اور پوچھا کہ تمکو مری شاپ کا کسنے بتایا ہے تو اسنے بتایا کہ آپکی کزن اکثر آپکے بارے میں بات کرتی رہتی ہے اور اسی سے آپکی شاپ کی بارے میں پتا چلا .آپکی شاپ میرے کالج کی راستے میں ہے اور میں 2 گھنٹے تک آپکی شاپ پی آرہی ہوں میں نے کہا ٹھیک ہے آجانا .اور پھر کال بند ہوگیی اور میری عجیب سی حالت ہو رہی تھی انتظار کی وجہ سی اور میں صائمہ کو دیکھنا چاہتا تھا اور بری مشکل سے 2 گھنٹے گزرے اور پورے ٹائم پر صائمہ اپنی ایک دوست کی ساتھ شاپ میں انٹر ہوئی.لیکن دونو میں سی مجے پتا نی تھا کہ صائمہ کونسی ہے تو اسی ٹائم صائمہ میرے سامنے کھڑی ہو گئی.اور اسنے مجے سلام کیا اور بتایا کہ صائمہ میں ہوں اور یہ مری دوست ہے اور اسکی دوست دوسرے کونٹر پر جا کر گارمنٹس دیکھنے لگ گئی اور صائمہ کو میں نے پوچھا کہ کیا لیں گی اپ ٹھنڈا یا گرم اور اندر سی مجے لڑکوں کی وجہ سی تھوڑا دار بھی لگ رہا تھا صائمہ نی کہا ٹھنڈا اور گرم آپکی طرف ادھار رہا پھر کبھی سہی میں صرف آپکو دیکھنے ک لئے یی تھی.اور بہت آہستہ بول رہی تھی میں نے کہا ک اپ نی تو مجے دیکھ لیا اور میں آپکو کب دیکھ سکتا ہوں اسنے کہا ک شام کو اپ میری گلی میں آجانا اور دیکھ لینا.اتنی دیر میں صائمہ کی دوست نے 3 4 گارمنٹس کی چیزیں نکلوا لیں اور پیک بھی کروا چکی تھی لڑکوں سی اور اس وقت پیسے لینا مری مجبوری تھی کیوں لڑکے دیکھ رہے تہے .اور پھر سلام ک بعد وہ چلی گئی اور راستے میں ہی مجھے میسج کیا رضا اپ بہت پیارے ہو میں نی تھنکس بولا اور بتایا کہ میں شام کو 5 بجے آپکی گلی میں آؤں گا .

شام کو 5 بجے میں صائمہ کی گلی کی طرف نکل گیا اپنا بائیک لے کر.اور صائمہ کو بھی میسج کر دیا اور اسنے بتایا کہ وہ اپنی چھت پر ہو گی اور وہاں سی ہی دیکھ لے گی.میں 15 منٹ بعد اسکی گلی میں آگیا اور اسنے کال کر کہ اپنا گھر بتایا کہ کونسا ہے اور میں بھی اسی گھر کی پاسس تھا اور چھت بلکل صاف نظر آرہی تھی اور صائمہ بھی چھت پر ہی تھی اور اسنے دوپٹہ لیا ہوا تھا اور ناکاب نہیں کیا تھا اور میں اسے دیکھ کر حیران رہ گیا بہت پیاری لگ رہی تھی وہ اور ڈوپٹے میں اسکی چھاتیاں بھی واضح نظر آرہی تھیں اور اسکی چھائیاں کافی بری لگ رہی تھیں اور اسنے پھر اپر سی ہاتھ ہلایا اور میں نے بھی جواب دیا اور نیچے سے کسی نہ کسی کہ دیکھنے کا بھی دار تھا تو میں وہاں سی جلدی نکلنے کا سوچا .اور پھر میں نے صائمہ کو میسج کیا کہ تم بہت پیاری ہو اور مجھے آپسے پیّار ہوگیا ہے اسکا جواب آیا کہ پیار تو مجھے آپسے ہو گیا ہے .تھوڑی دیر بعد اسکا میسج آیا کہ ابّو آگے ہیں میں تھوڑی دیر تک بات کرتی ہوں

پھر ہماری رات کو تھوڑی دیر میسج پر بات ہوئی اور پھر وہ اپنے گھر کی کام میں مصروف ھو گئی.اور رات کو 11:20 پر میسج آیا کہ اپ سونا نہیں ہم رات کو کال پر بات کریں گی .میں نے کہا ٹھیک ہے اور فیس بک پی چیٹ کرنے لگ گیا .اور پھر 1 بجے اسکی کال آگئی میں نے کال اٹینڈ کی اور وہ بہت سلوو آواز میں بول رہی تھی .
صائمہ :کیا ہو رہا ہے 
میں :کچھ نہیں کمپیوٹر پی ہوں 
صائمہ :مجھے اپ نی مس نہیں کیا 
میں:بہت مس کیا آپکو میں نے
صائمہ:اگر مجھے مس کیا تو میسج کر دینا تھا 
میں: میں نے سوچا کہ اپ کو گھر میں کوئی مسلہ نہ بنے
صائمہ: ہاں کال کا مسلہ ہو سکتا ہے لیکن میسج اپ جب مرضی کرو 
میں :کیوں نہیں آپکو اب ہر تم مس کروں گا اور ہر ٹائم میسیجز کروں گا
صائمہ:کوئی بات نہیں جتنے مرضی کرو.
میں :صائمہ اپ مجے بہت اچھی لگی ہو یار مجھے تمسے پیار ہو گیا ہے
صائمہ :سچی مجھے اپ بہت اچھے لگے ہو 
میں: تو میرے پیار کی پہلی کس کب دی رہی ہو 
صائمہ:تھوڑی چپ رہنے ک بعد جب اپ کہو.
میں :تو پھر کل ہے ملتے ہیں 
صائمہ :مجھے بہت ڈر لگتا ہے 
میں: یار میں بھی تو آپکے ساتھ ہوں گا نہ.
صائمہ:لیکن مجھے پھر بھی ڈر ہے 
میں:یار اپ مج پر اعتبار کر سکتی ہو
صائمہ:ایسی بات نہیں ہے 
میں:اپ ملنے کا بتاؤ بس مجھے
صائمہ :ٹھیک ہے لیکن ہم ملیں گی کدھر 
میں:میرے دوست کا گھر ہے وہاں دن کو کوئی بھی نہیں ہوتا 
صائمہ:میں پہلی دفع کسی لڑکے سی مل رہی ہوں تو پلیز کوئی ٹینشن نہیں ہونی چاہے
میں :اپ کوئی پرشانی نہ لو میں ہوں نہ.
صائمہ:اب سب کچھ اپ پی ہے 
میں:ٹھیک ہے 
اور پھر ہم نے کال پر ایک دوسرے کو کس کی اور بائے کہا اور کل ملنے کا پکا کیا اور سو گے.

اگلے دن مجھے بہت بیچینی لگی ہوئی تھی کہ جلدی سی ٹائم ہو اور میں صائمہ سے ملوں.میں شاپ پی چلا گیا اور ؤسننے کہا آج کالج صرف 2 گھنٹے ک لئے جانا ہے اپ مجھے کالج ک پاسس سی پک کر لینا میں فری ہو کر میسج کر دوں گی.میں بہت بہت خوش تھا کہ اتنی جلدی لڑکی پھنس گی اور اور ذھن میں یہ تھا کہ وہ کنواری ہے یا سب کر چکی ہے .خیر ٹائم گزرتا گیا بری مشکل سے اور پھر اسکا میسج آیا کہ رضا آجاؤ کالج کہ کارنر پی.میں جلدی سی بائیک لے کر گیا اور دوست کو میں نی صبح ہی بتا دیا تھا اور جب صائمہ کو لینے جا رہا تھا تب بھی کال کر دی کہ میں آرہا ہوں.میں کالج ک کارنر پی گیا اور صائمہ وہاں کھڑی ہوئی تھی اور میں پاسس جا کر رک گیا اور وو میرے پیچھے آ کر جلدی سی بیٹھ گی اور کہا ک جلدی سی چلو یہاں سے.اور میں سپیڈ سی وہاں سی نکل گیا.صائمہ میرے ساتھ لگ کر بیٹھی ہوئی تھی اور اسکے سوفٹ بریسٹس مری کمر ک ساتھ لگ رہے تہے اور میں ہاٹ ہو رہا ہے تھا اسکے نپل ایک دم ٹائٹ ہو چکے تہے.راستے میں کوئی خاص بات نہیں ہوئی اور 10 منٹ میں ہم دوست کی گھر چلے گیے.

میں نے بیل دی تو دوست نی دروازہ کھولا اور ہمکو اندر انے کو بولا .ہم اندر چلے گیے اور دوست نے کہا کہ میں تھوڑا کام جا رہا ہوں جب جانا ہو مجے کال کر دینا اور اپنے بائیک کی چابی دی دو اور وو میرا بائیک لے کر چلا گیا اور میں دروازہ بند کر کے آگیا .صائمہ تھوڑی پریشان لگ رہی تھی میں حوصلہ دیا کہ ڈر کیوں رہی ہو جبکہ میں ساتھ ہوں.خیر میں اٹھا وہاں سی اور کچن کی طرف چلا گیا مجے دوست کی سارے گھر کا پتا تھا کیوں میں پہلے بھی اتا جاتا رہتا ہوں دوست کے گھر.فریج سے میں نے کوک کی بوتل لی اور 2 گلاس میں ڈال کر کمرے میں چلا گیا.ایک گلاس صائمہ کو دیا اور دوسرا خود لیا.میں نی صائمہ کو کہا کہ صائمہ تم بہت پیاری لگ رہی ہو وو شرما گئی میں تھوڑا اسکے قریب ہو کر بیٹھ گیا اور اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور پھر اسکے ہاتھ کو پکڑ کر چومنا شرو کر دیا . پھر صائمہ کو کہا ک میری جان تمہارے ہاتھ بہت سوفٹ ہیں اسکی سانسیں تھوڑا تیز ہو رہی تھیں میں سمجھ گیا کہ وو بھی گرم ہو رہی ہے پھر میں اسکے لیپس پی اپنی ایک انگلی رکھی تو اسنے اپنے ہونٹ کھول دئے اور میری انگلی کو چوسنے لگ گئی
جس انداز سی وہ مری انگلی چوس رہی تھی میں حیران ہو گیا وہ کسی ماہر سککنگ کرنے والی کی طرح کر رہی تھی.میں نی پھر انگلی اسکے منہ سے نکال کر اور اسکے بالوں میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے قریب کر لیا اور اپنے ہونٹ اسکے ہونٹوں پر رکھ دئے اور وہ اسنے اسی ٹائم میرے ہونٹ چوسنا شروع کر دیے .پھر اسنے اپنی زبان میرے منہ میں ڈال دی اور میں نے بھی پورا ساتھ دیا اور اسکی زبان چوسنے لگ گیا اور وہ بہت گرم ہو چکی تھی کس کرتے کرتے میں اپنا ایک ہاتھ اسکے ممے پی رکھ دیا پہلے تو اسنے ہٹانے کی کوشش کی لیکن کس کی نشے میں وہ زیادہ دیر نہ روک پائی مجھے اور میں نی اسکے ممے کو دبانا شروع کر دیا اسکے ممے کافی بارے تہے اور جسم بھرا ہوا تھا اور بہت نرم تھا اسکا جسم.میرا لوں پورا ٹائٹ ہو چکا تھا اور اسکی ٹانگوں میں تھا میرا لوں بلکل اسکی پھدی کی پاس.
پھر جب میں دیکھا کہ وہ کافی گرم ہو گئی ہے تو میں نی اسے بیڈ پی لیٹنے کو کہا اور وہ بیڈ پر لیٹ گئی اور میں بھی اسکے اوپر لیٹ گیا اسکے نپل کافی سخت ہو چکے تہے.میں اسکےساتھ کس کرنی شروع کی دوبارہ اور اسنے پورا ساتھ دیا اور پھر میں نے سلوو سلوو اپنا ہاتھ اسکی کمیض میں ڈالنے لگا اور اسنے مجھے نہیں روکا اور وو فلل گرم ہو چکی تھی.میں نی اسکی کمیض اوپر کردی اسنے مجھے نہیں روکا اور میں دیکھ کر حیران رہ گیا اتنا سفید اور بے داغ جسم میرا لن تو اور بھی سخت ہو گیا اور اس ٹائم میرا لن بلکل اسکی پھدی کی ساتھ ٹچ ہو رہا تھا.میں نے اسکا برا اوپر کرنا چاہا تو وہ اوپر نہیں ہو رہا تھا صائمہ خود تھوڑی سی اوپر ہوئی اور پیچھے سی اسنے برا کی ہک کھول دی وہ اتر اس لئے نہیں رہا تھا کیوں کہ اسنے اپنے مموں کی حساب سی چھوٹا برا پہنا ہوا تھا.میں تو اسکے ممے دیکھ کر جسی بت ہی بن گیا تھا تھوڑی دیر دیکھنے ک بعدد میں ان پی تو پر اور نپل منہ میں لے کر چوسنے لگ گیا اور صائمہ کی آوازیں انی شروع ہو گئی اور وہ بہت زیادہ گرم ہو چکی تھی،تو اس وقت میں نی اپنا ایک ہاتھ اسکی شلوار میں ڈال دیا صائمہ نی میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر روک دیا تو میں نے کہا کہ کچھ نہیں کرتا میں ہاتھ لگا کر دیکھنا چاہتا ہوں میری جان تو اسنے اپنا ہاتھ سائیڈ پر کر لیا اور میرا ہاتھ جب شلوار کی اندر گیا تو پتا چلا کہ اسنے نیچے پینٹی پہنی ہوئی ہے میں نی اس میں ہاتھ ڈال دیا اور ہاتھ سیدھا اسکی پھدی پر چلا گیا اسکے منہ سی آواز تیز ہو گئی اور میرا ہاتھ پورا گیلا ہو چکا تھا کیوں ک اسکی پھدی بہت پانی چھوڑ رہی تھی.میں نے انگلی اندر ڈالنا چاہی تو پتا چلا کہ اسکی پھدی بہت تتنگ ہے صائمہ نی بھی مزے والی آواز میں کہا کہ رضا انگلی نہ ڈالو یہ آپکے لئے ہی ہے لیکن ابھی نہیں اور صائمہ چھوٹنے کی بلکل قریب تھی تو میں رک گیا اور صائمہ میری طرف دیکھنے لگ گئی .میں نے کہا کہ صائمہ اگر آج ہم نی کرنا کچھ نہیں ہے تو دیکھنے تو دو نہ اسنے کہا ک ٹھیک ہے لیکن شلوار اتارنی نہیں ہے نیچے کرلو اور کوئی حرکت نہیں کرنی پلیز میں نے کہا کہ ٹھیک ہے میری جان.اور میں نی اسکی شلوار اور پینٹی نیچے کر دی اور دیکھ کر حیران رہ گیا اسکی پھدی پر ایک بھی بال نہیں تھا اور اسکی پھدی فلل گیلی ہو چکی تھی میں بیڈ سی اٹھا اور ٹشو اٹھا کر لے آیا اور صائمہ کی پھدی کا پانی صاف کیا ٹشو سے اور میں نی اسکی ٹانگوں میں اپنا سر ڈال دیا اور اپنی زبان اسکی کلٹ پر پھیرنا شروع اور صائمہ بہت حیران ہوئی اور کہنے لگی رضا یہ جگا گندی ہے اپ پلیز نہ کرو لیکن میں نہیں روکا اور اسکی پھولی ہوئی پھدی کی ہونٹ اپنے ہاتھ سے کھولے اور زبان اندر ڈال دی اور صائمہ تڑپ اٹھی اور مچھلی کی طرح ہلنے لگ گئی اور اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھ کر دبانے لگ گئی اور تھوڑی ہی دیر میں وو چھوٹ گئی اور اسکی سانس بہت تےش چل رہی تھی اور وو ایسے ہی بیڈ پر لیٹی رہی اور سانس بھال کرتی رہی اور جب وو بلکل نارمل ہوئی تو ٹائم دیکھنے لگ گئی اور کہنے لگی کہ رضا میں بہت لیٹ ہو گئی ہوں گھر سی پلیز اپ جلدی سی مجھے گھر کی پاس چھوڑ دو تو میں نے کہا کہ میری جان اپکا کام تو ہو گیا میرا رہتا ہے ابھی تو وو کہنے لگی ک رضا اگر میں گھر ٹائم پر نہ گئی تو مصیبت ہو جائے گی پلیز مان جاؤ میری جان اگلی دفع میں سٹارٹ کروں گی اور اپ اینڈ کرو گے.اور وہ بہت معصوم لگ رہی تھی 
میں نی پھر اپنے دوست کو کال کی اور کہا کہ آجاؤ جلدی ہم نے جانا ہے.پھر صائمہ میرے قریب آی اور کس کرنے لگ گئی اور کہا رضا جان پلیز برا نہیں ماننا میری مجبوری ہے اس ٹائم جلدی جانا.دوست اگیا اور میں نے صائمہ کو بائیک پر بٹھایا اور گھر بیک والی گلی میں چھوڑ کر اپنے گھر چلا گیا کیوں کہ پھدی تو ملی نہیں اور نہ ہی میں چھوٹا تھا تو لن میں درد ہو رہا تھا اور اسے فارغ کرنا ضروری تھا تبھی صائمہ کا میسج آیا تو میں نے پوچھا کہ کوئی مسلہ تو نہیں بنا کہنے لگی کہ میں امی نی پوچھا کہ اتنی دیر کہا لگا دی تو میں نے بہانہ بنایا ہے کہ دوست کی طرف چلی گئی تھی اسکے گھر والے صائمہ پ بہت اعتبار کرتے تھے اور ہیں